سودی کاروبار کرنے والی سوسائٹی کا دیا ہوا روپیہ مسجد و امام وغیرہ کے لئے
سوال
(۱) چند مسلم حضرات نے مل کر ایک سوسائٹی بنائی ہے، اور اس کو گورنمنٹ سے منظور کرا کر رجسٹر ڈ بھی کرالیا ہے، اس سوسائٹی کا کام پبلک کو روپیہ تقسیم کرنا اور قسط کی صورت میں مع سود وصول کرنا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ان صاحبان کی کمائی محض سود کی ہے، کیا یہ سوسائٹی یا کوئی منفرد بطور چندہ کے مسجد، عربی مدرسہ اور رمضان شریف کی شب قدر وغیرہ میں کچھ رقم دینا چاہیں تو اس کو قبول کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر دے بھی دی ہے تو کیا متولی اس رقم کو مندرجہ بالا تینوں قسم کی مد میں استعمال کر سکتا ہے؟
جواب
(۱) سود کا روپیہ مسجد، شب قدر وغیرہ میں خرچ کرنا جائز نہیں، اگر اصل مالک کو واپس نہ کیا جا سکے تو غرباء پر صدقہ کر دیا جائے، غریب طلباء پر بھی صرف کیا جا سکتا ہے، یعنی ان کے کھانے کپڑے کے لئے دیا جائے، عربی مدرسہ وغیرہ کی تعمیر یا تنخواہ میں دینا درست نہیں۔ (۲) جس دعوت میں سود کا کھانا کھلایا جائے اس کو ہرگز قبول نہ کرے، ایسا کھانا غریبوں کو بطور صدقہ دیدیا جائے۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔