حلال و حرام روپے سے خریدنے کے بعد پھر حلال مال سے خریدنے کا مسئلہ / مال حرام سے دینی خدمت
سوال
بعض لوگوں کی کمائی سینما یا سٹہ یا جوا، یا شراب کی ہوتی ہے، اور وہ یہ چاہتے ہیں، کہ ہم دینی مدرسہ یا مسجد میں دیں تو کیا طریقہ اختیار کریں؟ بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کسی شخص سے روپیہ بطور قرض لے کر دینی مدرسہ یا تعمیر مسجد میں دیدیں اور اپنی اس کمائی کی رقم سے اس قرض کو ادا کریں تو کیا یہ طریقہ جائز ہے، اس طریقہ سے وہ رقم دینی مدرسہ یا مسجد میں خرچ کر سکتے ہیں، سارے جواب حدیث وفقہ کی روشنی میں دیں؟
جواب
جن کے پاس ناجائز کمائی کا روپیہ ہے وہ اگر کسی سے جائز روپیہ قرض لے کر مدرسہ یا مسجد کیلئے دیں تو یہ درست ہے، نا جائز دیں تو مدرسہ یا مسجد کی تعمیر کے واسطے نہ لیا جائے ”ولا بأس بنقشه خلى محرابه بجص وماء ذهب لوبما له الحلال اھ در مختار قال تاج الشريعة اما لو انفق في ذلك مالا خبيثاً اومالاً سببه الخبيث والطيب فيكره لان الله تعالى لا يقبل الا الطيب فيكره تلويث بيته بما لا يقبله…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔