مزار کا پیسہ مسجد اور مدرسہ میں دینا
سوال
خراسان سے آنے والے جناب سید ابوالقاسم خراسانی نقشبندی طریقہ کے ایک ولی کامل تھے۔ پچھتر سال سے ان کے مزارِ مبارک کی لوگ زیارت کرتے ہیں، ان کے صاحبزادے اور صاحبزادی اور نواسے وغیرہ اسی مزار کی خدمت، جھاڑو دینا وغیرہ خاندانی طور پر پچھتر سال سے کرتے آ رہے ہیں، زائرین حضرات پیسہ بھی عطیہ کرتے ہیں، فی الحال مذکور سید صاحب مرحوم کے نواسے بحیثیت خدام مزار مذکور کا پیسہ مزار کے کام میں خرچ کرتے ہیں، اور پیسہ فاضل رہنے سے اپنے کھانے پینے میں صرف کرتے ہیں، فی الحال ایک گروہ مذکور مزار کے پیسہ کو مدرسہ کے کام میں خرچ کرنا…
جواب
زائرین جو پیسہ خادم مزار کو بسلسلہ خدمت و تعلق صاحب مزار دیتے ہیں، وہ خدام مزار کا ہے، اس کو جبراً مدرسہ کے واسطے لینے کا کسی کو حق نہیں، حدیث پاک میں ہے ”لا يحل مال امری مسلم الابطيب نفس منه اھ“
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔