قوالی اور اس کی آمدنی مسجد میں دینا
سوال
میرا ذریعہ معاش فن قوالی ہے اور خدا کے فضل وکرم سے آمدنی بہت اچھی ہے، اس آمدنی سے مساجد وغیرہ اور قرآن خوانی کرا کے قرآن کریم پڑھنے والوں کے ساتھ مالی تعاون کروں تو جائز ہے یا نہیں؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ مسجد کے لئے نا جائز ہے، اور نہ ہی اس سے کوئی ثواب حاصل ہو سکے گا؟
جواب
یہ پیشہ شرعاً ممنوع ہے اس کی آمدنی بھی ممنوع ہے، اللہ کے گھر میں ایسی آمدنی نہ لگائی جائے، اسلئے اگر آپ مسجد کی اعانت کرنا چاہتے ہیں تو کسی سے جائز آمدنی کا روپیہ قرض لیکر مسجد میں دیدیں، اور کہدیں کہ یہ میں قرض لے کر دے رہا ہوں، تا کہ کسی کو اشتباہ نہ رہے، اور کوئی دوسرا جائز آمدنی کا ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کریں، حق تعالیٰ سے دعا بھی کریں، اللہ پاک جائز اور پاک آمدنی عطا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔