اراضی مسجد پر کاشتکاروں کے قبضہ کے اندیشہ سے ان کو فروخت کر کے اس رقم سے ذریعہ آمدنی بنانا
سوال
جامع مسجد کے نام سے اراضی معافی ریاست ٹونک کے زمانہ رہیں جس کا لگان کاشتکاروں سے وصول کر کے جامع مسجد کے مصارف میں آتا رہا، اب راجستھان حکومت نے اراضیات معافی پر لگان کی رقم قائم کر دی جو سر کار میں داخل ہو رہی ہے، جو جامع مسجد کو داخل کرنا ہوتی ہے، چونکہ زمانہ معافی میں کاشتکاروں سے مقررہ رقم قدیم سے وصول ہو رہی تھی، اور سرکار میں کچھ نہیں دیا جاتا تھا، اس لئے پوری رقم مسجد کے مصارف میں آتی تھی، اور اب اسی رقم میں سرکاری قائم شدہ لگان بھی دیا جاتا ہے، تو کسی زمین کے لگان میں مسجد کو برائے نام بچت رہتی ہے، اور کسی…
جواب
اگر صورت واقعہ یہی ہے تو ان اراضیات کو فروخت کر کے ان کے عوض مکانوں یا دوکانوں کی تعمیر کر لی جائے جس پر مسجد کا دوامی قبضہ رہے اور مسجد کو آمدنی ہوتی رہے لیکن ارباب رائے اور اہل محلہ کو پوری صورت بتا کر سب کے مشورہ سے یہ کام کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ آئندہ اوقاف کی فروختگی کا مطلقا دروازہ کھل جائے، کیونکہ وقف کی بیع جائز نہیں ہے الا یہ کہ وقف کے ضائع ہو جانے کا مظنہ ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔