فقیروں کی دی ہوئی مسجد کی بیع وغیرہ
سوال
قصبہ شاملی مسجد گڑھی والی کی پشت پر ایک افتادہ زمین تھی جو کہ تکیہ کے نام سے موسوم تھی، اور فقیر اس پر قابض و متصرف تھے فقیروں نے وہ زمین ایک شخص کو کاشت کرنے کیلئے دیدی شخص مذکور نے کچھ خرچ کر کے اس میں کاشت درج کرالی فقیروں کو جب علم ہوا کہ زمین ان کے قبضہ سے نکل گئی تو انہوں نے وہ زمین برابر کی مسجد کو دیدی اور احتیاطی طور پر بیعنامہ چارسو کے قریب میں لکھ دیا گیا مگر لیا کچھ نہیں اس کے دو سال کے بعد جس شخص نے اپنی کاشت درج کرائی تھی ان کے احباب میں کچھ وہ اشخاص تھے جو مسجد کے انتظامی امور میں دلچسپی رکھتے تھے،…
جواب
(۱) جس زمین پر فقیر قابض تھے اگر اس کا وقف یا کسی اور کی ملک ہو نا ثابت نہیں تھا اور انہوں نے وہ فروخت کر کے مسجد کو دیدی اور قیمت نہیں لی تو وہ زمین مسجد کی ملک ہو گئی ہے متولی صاحبان نے اگر اس کو خرید کر با قائدہ وقف نہیں کیا تو وہ وقف نہیں ہوئی ہے (۱) اس صورت میں یہ بیع نامے جائز ہوئے۔ (۲) وقف نہیں۔ (۳) بیع جائز ہے قیمت کی واپسی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔