الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نیچے دوکانیں او پر مسجد

سوال

زید ایک قطعہ زمین جس کا رقبہ آراضی سات یا سواسات پیسہ ہے، اس میں پانچ یا چھ دوکانیں بنوا کر اوپر منزل پر مسجد تعمیر کراتا ہے، نیچے کی دوکانوں کا کرایہ وصول کر کے اپنے صرف میں لاتا ہے، اور مسجد کے واسطے کچھ نہیں دیتا یہ کہتے ہوئے کہ میں نے مسجد کو اوپر والی منزل تجویز کیا ہے، نہ کہ زمین پر حالانکہ زمین خداوند کریم کی ساخت ہے مسجد کی خرچ کے کفالت کا ذمہ دار نہیں ہوتا مگر بکر اعتراض کرتا ہے کہ مسجد تحت الثریٰ سے لیکر عرش معلی تک شمار ہوتی ہے، اور اگر بالفرض بوجه حادثات زمانہ چھت تباہ ہو جائے تو مسجد بھی اور مسجد کے…

جواب

صورت مسئولہ میں یہ مسجد شرعی مسجد نہیں ہوئی اس میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا، اگر یہ زمین پہلے سے مسجد کیلئے وقف تھی زید کی ملکیت نہیں تھی، تو زید کو ان دوکانوں وغیرہ کا کرایہ اپنے کام میں لانا ہرگز جائز نہیں مسجد پر صرف کرنا واجب ہے، اور یہ دوکانیں مسجد ہی کی ہوں گی، اور مسجد شرعی مسجد ہوگی ”ومن جعل مسجداً تحته سرداب اوفوقه بيت وجعل باب المسجد الى الطريق وعزله…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو