مسجد کے اندر بنے کمرہ میں دفتر وغیرہ
سوال
مسجد کا اندرونی حصہ ہے، اصل میں مسجد کی زمین تین کونے والی ہے، جب مسجد بنائی گئی تو سیدھی بنائی گئی ہے، ایک کونہ اس کا بچا رہا لیکن مسجد کے بیرونی حصہ فرش میں اس کو بھی شریک کر لیا گیا، اور جمعہ کے دن جب لوگوں کی کثرت ہوتی ہے، تو اس میں بھی لوگ نماز پڑھ لیا کرتے تھے، اس کے بعد اس حصہ میں مسجد کا ایک کمرہ بنا دیا گیا ہے، جس میں اب مدرسہ کے بچے رہا کریں گے، یا مدرسین رہیں گے، یا ناظم صاحب کا دفتر ہوگا، جو کہ مسجد کے امام بھی ہیں، کیا اس کمرہ کو جو مسجد ہی کے حصہ میں بنایا گیا ہے، رہنا، سونا، دفتر بنانا جائز ہے یا…
جواب
اگر وہ جگہ بھی نماز کیلئے ہی وقف اور متعین کر دی گئی تھی، تو اب اس جگہ مستقلاً امام یا ناظم کارہائش اختیار کرنا یا اس میں کار دفتر کرنا یا اسکو مدرسہ کے بچوں کا دارالاقامہ قرار دینا درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔