الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چندہ سے تعمیر شدہ مسجد میں اپنے نام کا پتھر لگانا

سوال

ہمارے یہاں میدان جو گل تحصیل ہندوارہ میں ایک جامع مسجد تعمیر ہورہی ہے، ایک شخص ایک پتھر جو کہ سنگ مرمر کا ہے اس پر تاریخ سنگ بنیاد اور ذاتی نام کھدوا کر دیوار میں نصب کرنا چاہتا ہے، مگر مسجد شریف متذکرہ عوامی چندہ سے تعمیر ہورہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جو آدمی اپنا نام سنگ مرمر پر کھدوا کر اس کو دیوار میں نصب کرنا چاہتا ہے چندہ کی فراہمی اور دیگر کام میں زیادہ حصہ لیتا ہے، گاؤں میں اکثر لوگ اس پر برانگیختہ ہو گئے ہیں، اور شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں، حتی کہ اب مسجد شریف پر بھی رکاوٹ پڑنے کا احتمال ہے چونکہ…

جواب

اگر اہالیان مسجد ان صاحب کو مسجد کا متولی و مہتمم قرار دے لیں اور ان کے انتظام واہتمام سے مسجد کا کام انجام پائے تو اس سنگ مرمر پر اس طرح سے عبارت لکھدی جائے کہ اس مسجد کی تعمیر فلاں صاحب کے انتظام و اہتمام سے ہوئی تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، لیکن خود ان صاحب کا مطالبہ کہ میرا نام پتھر پر کندہ کر کے لگایا جائے، اخلاص کے خلاف ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناموری کے خواہش مند…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو