مسجد میں حدیث لکھ کر لگانا اور اپنے لئے دعا کرانا اور اپنا نام لکھنا
سوال
ہمارے یہاں مسلم ایسوسی سیشن تختہ سیاہ پر مندرجہ ذیل حدیثیں کسی معتمد رسالہ سے نقل کر کے مسجد کے داخلی دروازے کے پاس اندرون مسجد آویزاں کرتی ہے، اور اس کا مقصد مسلم بھائیوں کی اصلاح کے سوا کچھ بھی نہیں، نمازی حضرات سے یہ جماعت اپنے لئے دعائے خیر کی گزارش کرتی ہے، کیا از روئے شرع اس طرح پر کسی فرد یا جماعت کا اپنی اصلاح اور خیر کی دعا کرانا احکام ربی اور احادیث نبوی لکھنے سے پہلے کسی فرد یا ادارہ کا اول یا آخر نام لکھنا منع ہے؟مندرجہ ذیل حدیثیں ہم لوگ لکھتے ہیں :دین سیکھو اور سکھاؤ (۱)
جواب
کسی فرد یا جماعت کا اپنے لئے دعا کے لئے درخواست کرنا منع نہیں، احادیث لکھ کر دعا کی درخواست کرنا کہ اللہ تعالیٰ ہم کو بھی عمل کی توفیق دے یہ بھی منع نہیں، نام چاہے آخر میں لکھا جائے یا پہلے، مگر اس طرح نام لکھنے سے اس لکھنے والے فرد یا جماعت کی بھی تشہیر ہوتی ہے، جس کی بناء پر لوگ تعریف کرتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ کام کا مقصود تعریف ہی تک محدود رہ جائے، رضائے خداوندی اور اشاعت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔