محراب سے اس طغریٰ کو ہٹانا
سوال
(۱) اگر امام اس طغرئی کے روبرو کھڑا ہو تو نماز میں کسی قسم کا حرج تو نہیں؟(۲) طغرے کی مجموعی حیثیت و نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ارشاد فرمائیے کہ اس کو محراب سے الگ کر دینا چاہئے یا نہیں۔(۳) جو امام اس طغرے کو حسب حال رکھنے کے حق میں ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے یا نہیں؟ یا دوسری مسجد میں پڑھنا بہتر ہوگا؟
جواب
(۱) نماز سب کی ہو جائے گی، خاص کر جبکہ اس پر پردہ پڑا ہوا ہے، نظر کے سامنے نہیں، نہ اس کی پرستش مقصود ہے، نہ اس کا ایہام ہے۔(۲) بالکل فوراً الگ کر دیا جائے، مگر ایسے طریقہ پر کہ فتنہ نہ ہو، نرمی سے مسئلہ بتا کر فہمائش کر دی جائے۔(۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔