توسیع مسجد کیلئے پڑوسی کی زمین لینا
سوال
دکھن طرف مکان اور اتر طرف مسجد ہے، مسجد کا دروازہ پورب کی طرف ہے، مکان اور مسجد کے درمیان زمین افتاده ۲۴۰ ر ہاتھ پڑی ہے، دکھن جس کا مکان ہے اس کا صحن بھی اسی طرف ہے وہ مکان والا چاہتا ہے کہ مکان بنائے اور ایک شخص نے وہ زمین چھ ہاتھ چھوڑ کر مسجد کیلئے خرید کر چھوڑ دیا جس کا اس کو اقرار ہے، تو اب مکان بنانے کے لئے کسی کو دی جائے تو جائز ہے یا نا جائز ہے؟ مسجد کے بڑھانے کا ارادہ پہلے سے تھا، پڑی ہوئی زمین وقف ہوئی یا نہیں
جواب
اگر اس شخص نے خرید کر مسجد کیلئے وقف کر دی ہے تو وہ مسجد کی زمین ہے، کسی دوسرے شخص کو مکان کے لئے مفت یا قیمتاً دینا جائز نہیں، الوقف اذاتم ولزم لا يملك ولا يملك اه در مختار، ص ۳۶۷ ر ج ۳ مطبوعہ نعمانیہ دیو بند۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔