الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

توسیع مسجد کی ایک صورت

سوال

کشمیر میں ایک قصبہ تو پیاں کے نام سے واقع ہے، اسی قصبہ میں اہل اسلام کی ایک جامع مسجد ہمیشہ سے آباد ہے، امتدادِ زمانہ سے یہ مسجد نہایت خستہ ہو گئی تھی، اور رمضان شریف کے جمعہ میں نمازیوں کے لئے غیر مکتفی تھی، علاقہ بھر کے مسلمان نمازی نہیں سما سکتے تھے، لہذا مقامی لوگوں نے اس مسجد کو وسعت کے ساتھ تعمیر نو کرنے کے متعلق فیصلہ کر لیا، مگر سوائے حصہ مغرب کے کسی طرف میں توسیع کی گنجائش نہ تھی، صرف جہت مغرب میں اس مسجد کا خرد برد مقبوضہ رقبہ زمین واقع تھا، لہذا مسجد کو اسی جہت آگے بڑھانے کا مشورہ پاس ہو گیا، کشمیر میں…

جواب

اگر یہ تصرف واقف یا بانی یا اکثر ارباب حل وعقد کے مشورہ سے کیا گیا ہے اور اس سے مسجد کی مسجدیت یا اور کوئی مصلحت فوت نہیں ہوتی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، بوقت ضرورت شرعاً ایسا تصرف جائز ہے اور باعث اجر وثواب ہے، فی الکبری مسجد اراد اهله ان يجعل الرحبة مسجداً او المسجد الرحبة وارادوا ان يحدثوا له باباً وارادوا ان يحولوا الباب عن موضعه فلهم ذلك فان اختلفوا نظر ايهم اكثر وافضل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو