الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے قریب کی جگہ کو مسجد کے لئے لینا

سوال

(۱) زید اور عمر مسجد کے منتظم ہیں پس پشت مسجد کے ایک اراضی دیگر شخص کی ملکیت ہے زید اور عمر اپنے اثر اور دباؤ سے اس پر اپنا قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کا مالک کسی طرح بھی اس اراضی کو مسجد کو دینے کے لئے تیار نہیں تو ایسی حالت میں قبضہ جائز ودرست ہے۔ (۲) کیا اراضی مذکورہ بالا پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر زید وعمر کو کچھ ثواب ملے گا۔ (۳) کیا اراضی مذکورہ کو غاصبانہ قبضہ کے بعد مسجد کے کسی بھی کام میں لانا جائز ودرست ہے؟

جواب

اگر مسجد کی تنگی اور نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے توسیع کی ضرورت ہو تو مالک سے مناسب قیمت پر خرید لی جائے، اثر اور دباؤ سے زبردستی قبضہ کرنا غصب اور حرام ہے۔ (۲) مظلوم ہونے کی وجہ سے وہ صبر کرے گا تو بہت بڑا اجر وثواب ملے گا، اگر راضی ہو کر مسجد میں دیدے گا تب بھی مستحق اجر ہوگا۔ (۳) غصب کرنا ہرگز جائز نہیں ہے مسجد کے کسی کام میں لانا جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو