الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نئی مسجد اور پرانی مسجد میں نماز

سوال

ضلع ۲۴ / پرگنہ کے ایک قصبہ میں تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے کی ایک چھوٹی سی جامع مسجد تھی، اور اس میں صرف ۲۲/۲۰ کے قریب نمازی نماز پڑھتے ہیں، اسکے بعد آج سے تقریباً ایک سو سال قبل ایک زمیندار آدمی نے چاہا کہ یہ مسجد چھوٹی سی ہے مصلیان کا گزارا نہیں ہو سکتا، اس لئے وہ مسجد کے نام پر ایک سو بیگہ دھان زمین اور ایک بالا خانہ وقف کر دیا اور بہت بڑا شاندار پانچ گز والا ہے بجلی اور پنکھے بھی لگوا دیئے ہیں، اور اب اس میں ساٹھ پینسٹھ مصلی نماز پڑھتے ہیں جب وہ مسجد بنائی گئی اس وقت کوئی جھگڑا وغیرہ بھی نہیں ہوا اور سب نے مل جل…

جواب

جو جگہ ایک دفعہ شرعی طریقہ پر مسجد بنادی گئی ہے، اور وہاں اذان جماعت شروع ہو جائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسجد بن جاتی ہے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی ہو جب نئی مسجد بنائی گئی تو اس میں بھی اذان جماعت سب درست ہے پرانی مسجد کا کوئی نشان اب موجود نہیں لیکن اگر دلیل سے ثابت ہوجائے کہ یہاں سے یہاں تک مسجد تھی تو اب اس کو قبرستان کے کام میں لانے کی اجازت نہیں، بلکہ اس جگہ کو گھیر کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو