الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضرورت مسجد کیلئے صحن کے درخت کاٹ دینا

سوال

ایک شخص نے کچھ زمین مسجد کے لئے وقف کی، متولی نے (جبکہ مسجد کی کوئی کمیٹی نہ تھی) اس میں مختلف قسم کے درخت لگا دیئے ہیں اور وہ جگہ مسجد میں شامل کر لی گئی تھی، اب ممبران کمیٹی نے ان درختوں کو اکھاڑ کر موسم سرما میں دھوپ میں نماز پڑھنے کا اہتمام کر دیا، کیا یہ عمل درست ہے؟ متولی درخت اکھاڑنے پر راضی نہیں، اور قوم اکھاڑنا چاہتی ہے، کیا ان درختوں کو اکھاڑ کر نماز کے لئے جگہ بنائی جاسکتی ہے؟ صرف ایک درخت پھلدرا ہے، باقی سب بغیر پھل کے ہیں اور ان سے آمدنی کچھ بھی نہیں ہوتی؟

جواب

مسجد کا صحن نماز کے لئے ہے، وہاں درخت لگانا ہی ٹھیک نہیں الا یہ کہ مسجد کے مصالح کا تقاضہ ہو تو دوسری بات ہے، مثلاً وہاں پانی کا اثر ہو کر وہ درختوں میں جذب ہو سکتا ہے، درمختار اور شامی میں اس کی تصریح ہے، اگر مصالح مسجد کا تقاضا یہ ہے کہ صحن کو درختوں سے صاف کر دیا جائے تو شرعاً اس کی اجازت ہے اس میں کسی کو ضد نہیں کرنی چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو