الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی تنگی کی وجہ سے توسیع

سوال

موضع اچھ بل محلہ ملک پورہ سوپور کشمیر میں ایک مسجد ہے جو نمازیوں کیلئے ناکافی وتنگ ہے، اہل محلہ اس مسجد کو شہید کر کے از سرے نو بنانا چاہتے ہیں، مگر مغرب ومشرق کی جانب میں قبرستان ہے اور بطرف شمال مسجد کے ساتھ ایک زیارت ہے جس میں ایک ولی مدفون ہیں، بطرف جنوب سیڑھی کے ساتھ ایک میت مدفون ہے، یہ میت تقریباً بیس سال سے مدفون ہے، اس کے علاوہ اس کی طرف جگہ کافی ہے اگر مسجد شریف کو جنوب کے جانب بڑھایا جائیگا، تو یہ قبر مسجد کے نیچے آئے گی نیز دوسرے محلہ والے اپنے دور ہونے کا عذر بھی کرتے ہیں، اب دونوں محلہ داران اس مسجد…

جواب

اس مسجد میں جگہ تنگ ہونے کی بناء پر دوسری جگہ مسجد بنانے کیلئے اس مسجد کو شہید کرنا اور اس کی قیمت سے دوسری جگہ خریدنا ہرگز ہرگز جائز نہیں اگر اس مسجد میں جگہ کم ہے، نمازی اس میں نہیں سما سکتے اور آس پاس جگہ خالی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں توسیع ہی نہیں کی جاسکتی، تو دوسری جگہ مسجد بنانے کیلئے مستقلاً انتظام کیا جائے، اس مسجد کو فروخت نہ کیا جائے اسکی کسی طرح اجازت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو