اپنی مملوکہ زمین میں نماز باجماعت ادا کرنے سے کیا وہ مسجد ضرار ہے
سوال
آج سے تقریباً ۷۰ سال قبل میرے گاؤں کے دو پیر مرشد روشن ضمیر کے دو گواہوں میں کسی مسئلہ پر جامع مسجد میں کشیدگی ہو گئی، جس کی بناء پر ایک گروہ عارضی طور پر تصادم سے بچنے کی غرض سے ایک بڑے مکان پر اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ اور اس کا سلسلہ کچھ عرصہ تک جاری رہتا ہے بعد ازیں پھر دونوں گروہوں میں اتفاق واتحاد ہو جاتا ہے، اور پھر ایک ہی ساتھ جامع مسجد میں نمازیں ادا کرتے ہیں، مگر آج ماہ نومبر ۱۹۷۱ء کو چند حضرات اس قطعہ اراضی کو مسجد قرار دیکر اس شخص کو جو یقیناً اس کا اصل حقدار ہے، گھر خالی کرنے کو کہا جاتا ہے، ایسی صورت…
جواب
اگر اس مکان کو وقف نہیں کیا گیا اور مالک نے اپنا قبضہ مالکانہ نہیں اٹھایا بلکہ عارضی طور پر وہاں کچھ روز تک نماز پڑھی تو اس سے شرعی مسجد کے حکم میں نہ ہوا، بلکہ مالک کی ملک ہے اس سے زبر دستی خالی کرانے کا حق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔