نزاع سے بچنے کیلئے دوسری مسجد بنانا کیا وہ مسجد ضرار ہے
سوال
ایک مسجد میں کچھ نزاع کی بنا پر نمازیوں میں اختلاف ہو گیا، اور دو مسجدیں بن گئیں، ایک مسجد والوں نے اپنے ہم خیال بدعتی عالم کو بلوا کر تخریب اذہان کی صورت شروع کردی، بعض ان میں صلح پسند دیو بندی خیال رکھنے والے لوگ ہیں، جو اسے اچھا نہیں سمجھتے، تو کیا ان صلح پسندوں کے لئے یہ گنجائش ہے کہ ایک مستقل مسجد بنالیں اور اسے مسجد ضرار تو نہ کہیں گے، یہاں کے بعض عالم وہی بدعتی خیال اس کو مسجد ضرار کہتے ہیں؟
جواب
ویسے تو افراد امت کا جھگڑا بہت برا ہے، لیکن اگر نزاع کی بنیاد اس قسم کی چیز ہے جو صورت مسئولہ میں مذکور ہے اور پھر جھگڑے کو فرو کرنے کیلئے برطرفی اختیار کر لی جائے، تو مضائقہ نہیں صلح پسند لوگوں نے جس مسجد کے بنانے کا ارادہ کیا ہے، ان کا مقصد تخریب اذہان کے فتنے سے بچنا ہے، اس مسجد کو مسجد ضرار کہنا بہت برا ہے، قرآن پاک میں جس کو مسجد ضرار کہا گیا ہے، اول تو مسجد کہنا ان کفار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔