الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد ضرار کی ایک صورت

سوال

ایک مسجد بہت مدت سے آباد ہے، متولی مسجد نے اغراض ومقاصد کی وجہ سے اس مسجد کو توڑ کر ۱۰۰ ارقدم یا ۱۰۰۰ ارقدم پر ایک دوسری مسجد بنوائی آیا اس طرح مسجد قدیم کو ویران کرنا جائز ہے یا نہیں شخص مذکور ”ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى فی خرابها “کی وعید میں داخل ہوگا یا نہیں، آیت کریمہ “اتخذوا مسجداً ضراراً“کے تحت میں تفسیر کبیر سے، ص ۵۱۷ ج ۴ میں ہے”قال الواحدی قال ابن عباس ومجاهد وقتاده وعامة اهل التفسير الذين اتخذوا مسجدًا ضرارا كانوا اثنى عشر رجلاً من المنافقين بنوا مسجدا يضارون به مسجد قباء تفسیر…

جواب

(۱) جو مسجد کہ شرعاً مسجد بن چکی ہو اس کو بلا ضرورت شدیدہ منہدم کرنا جائز نہیں اور ضرورت شدیده مثلاً تنگی وکہنگی کی وجہ سے توڑ کر از سرے نو تعمیر کرنا جائز ہے لیکن ویران کرنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں لقوله تعالى ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعي في خرابها قال البيضاوى تحت قوله خرابها بالهدم او التعطيل، البيضاوی، تفسیر مدارک التنزیل، ص ۲۶۰ میں ہے”وقيل كل مسجد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو