الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا ضرورت دوسری مسجد بنانا

سوال

ہمارے موضع کے چند شر پسند افراد چند خیر پسند اور خادمان دین کے راستے میں برابر رکاوٹ ڈالتے رہے اور ان خادمان دین پر جنہوں نے اس علاقہ میں ایک مدرسہ اسلامیہ بھی قائم کیا ہوان کے خلاف برابر ریشہ دوانی کرتے رہے ہیں،اور ۱۳ رمضان ۱۳۹۵ھ کوان شر پسند افراد نے ان خیر پسند لوگوں پر اچانک حملہ کر دیا جبکہ وہ لوگ نماز مغرب ادا کرنے کیلئے جارہے تھے، اور وہ لوگ گولیوں اور لاٹھیوں سے مسلح تھے، اس لئے ان خیر پسند افراد کی جان کا خطرہ ہو گیا تھا، اس لئے ان لوگوں نے ایک نئی مسجد تعمیر کرائی، چنانچہ انہیں لوگوں نے جنہوں نے اس حملہ…

جواب

مسجد اللہ کی خوشنودی کے لئے بنانا بہت اجر وثواب کا کام ہے، آپس کی ناراضگی کی وجہ سے یا ایک مسجد کو ویران کرنے کے لئے دوسری مسجد بنانا شرعاً مذموم اور ناپسند ہے، لیکن اگر مسجد بنالی گئی، اور وقف کر دی گئی تو اس کو بھی آباد رکھنے کی ضرورت ہے، نہ اس میں آگ لگائیں، نہ ویران کریں کہ جس بستی میں شرائط جمعہ موجود ہوں اور وہاں متعدد جگہ جمعہ ہوتا ہو اور باہر سے آنے والے علماء بڑی مسجد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو