بضرورت نئی مسجد بنانا
سوال
ور اس موضع لداخ کا ایک علاقہ ہے، اس علاقہ میں آبادی دور تک پھیلی ہوئی ہے، سرحدی اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے گھنی آبادی والا موضع ملنا مشکل ہے، ان ہی حالات کے پیش نظر بزرگانِ دین نے یہاں نماز جمعہ کو جائز قرار دیا ہے، چنانچہ جامع مسجد تعمیر کی تھی، لیکن اب مسجد فوجی تحویل میں آچکی ہے، چنانچہ ملٹری کے قبضہ میں ہے، پنج وقتہ نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، صرف نماز جمعہ کی اجازت ہے اور جب ایمر جنسی حالات ہوتے ہیں تو ان دنوں نماز جمعہ کی بھی اجازت نہیں ہوتی، ہفتہ بھر اس موضع کے لوگ خاص طور سے نماز با جماعت سے محروم…
جواب
جب شریعت کے مطابق مسجد بنائی جائے، تو وہ ہمیشہ کے لئے بن جاتی ہے، نہ اس پر کسی کا مالکانہ قبضہ درست ہوتا ہے نہ کسی کو نماز سے روکنے کا حق ہوتا ہے، نہ اس کو گرانا درست ہے، اگر وہ پرانی مسجد دوسروں کے قبضہ میں ہے اور وہ پانچ وقت نماز کی اجازت اس میں نہیں دیتے صرف جمعہ کی اجازت دیتے ہیں اور وہ مسجد محفوظ ہے تو اس کو منہدم نہ کیا جائے، بلکہ محفوظ ہی رکھا جائے اور پنجگانہ نماز کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔