خاندانی اعزاز کے لئے بلا ضرورت مسجد بنانا
سوال
(۱) ایک ایسے آدمی نے کہ جن کو نہ خود نماز کی پرواہ اور نہ جماعت کی، نہ داڑھی سنت کے مطابق بلک غیر شرعی اپنی ایک افتادہ مختصر زمین مسجد کی تعمیر کے لئے اپنے خاندان کے لوگوں میں وقف کر دی مگر اس کے باوجود محض اپنی امتیازی حیثیت کے پیش نظر مستقل مسجد کی تعمیر کے لئے اپنے ہی نام سے درخواست بھی دیدی، اور ان کے خاندان کے لوگ اپنی خاندانی حیثیت وامتیاز کے پیش نظر اپنے ہی لوگوں میں چندہ فراہم کر کے تعمیر کریں، پھر اپنے خاندانی اعزاز کے پیش نظر اسے آباد کریں، جبکہ اس خاندان کے افراد محلہ کی قدیمی مسجد کے مستقل مصلی ہیں،…
جواب
مسجد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے بنائی جائے تو اس میں اجر عظیم ہے کسی دوسری غرض کے لئے بنائی جائے تو وہ مقبول نہیں، اس طرح پر ایسی جگہ بنانا جس سے قدیم مسجد کو ضرر پہنچے، ممنوع ہے جس مسجد کے ذمہ قرض ہے، اس کی ادائیگی کی فکر مقدم ہے، وقیل کل مسجد بنى مباهاة اوررياءً وسمعة اولغرض سوى ابتغاء وجه الله اوبمال غير طيب فهو لاحق بمسجد الضرار وعن شقيق انه لم يدرك الصلواة في مسجد بني…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔