الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلاضرورت دوسری مسجد بنانا

سوال

ایک مسجد جس میں صلوٰۃ پنجگانہ اور جمعہ ہوتا ہے، متصل مکان زید ہے، اور زید فسق وفجور میں مبتلا رہتا ہے، اس لئے لوگوں نے اس مسجد میں نماز پڑھنی چھوڑ دی اور ایک دوسری جدید مسجد کی تعمیر کی اور اس میں نماز پڑھنے لگے بس اب یہ مسجد مسجد ضرار کے حکم میں ہوگی یا نہیں، اگر نہیں تو مسجد جدید میں نماز ہوگی یا نہیں، اور وہ لوگ گنہگار ہوں گے یا نہیں؟

جواب

محض ایک شخص کے فسق وفجور کی وجہ سے دوسری مسجد بنانا اور اس میں جمعہ قائم کرنا جس سے پہلی مسجد ویران ہو جائے، شرعاً درست نہیں ہے البتہ فتنہ وفساد کے خوف سے دوسری مسجد بنائی گئی ہے تو شرعاً عذر ہے تاہم اگر مسجد جدید با قاعدہ مسجد بن چکی ہے تو اس میں جمعہ وغیرہ درست ہے اور اس کو مسجد ضرار کا حکم دیکر اس میں نماز کو نا جائز کہنا یا اس کو منہدم کرنا قطعاً درست نہیں اور مسجد قدیم کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو