الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دریا برد گاؤں کی مسجد کا سامان کس مسجد میں استعمال کیا جائے

سوال

جمنا کے کنارے ایک موضع ہے، جو سب دریا برد ہو گیا ہے، صرف چند مکان اور ایک مسجد باقی ہے، سرکار نے اس گاؤں کو دوسری جگہ بسا دیا ہے، جس میں تین مسجدیں ہیں، اب قدیم مسجد ویران ہے اس کے سامان کے استعمال میں نزاع ہورہا ہے، تو کونسی مسجد میں اس کو استعمال کر سکتے ہیں یا ابھی نہیں کر سکتے؟

جواب

جب تک قدیم مسجد موجود ہے، اسکے سامان کہیں منتقل نہ کریں، بلکہ اسی مسجد کو آباد کریں اور اگر کسی وقت وہ بھی دریا برد ہو جائے اور وہاں پانی کا قبضہ ہو جائے، پھر اس کا سامان ورقوم باہمی مشورہ سے جس مسجد میں ضرورت ہو وہاں منتقل کر دیں اگر مشورے سے اتفاق نہ ہو یا سب مسجدیں برابر ہوں تو پھر تینوں میں تقسیم کر دیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو