الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مالک کی اجازت سے اس کی زمین میں مسجد بنانا

سوال

بیوہ عبدل محلہ کٹرہ میں رہتی ہے اور محلہ کٹرہ میں ایک بڑا مکان ہے، ایک دروازہ چھوٹا سا صحن اور عام راستہ ہے جس میں رضا خاں اور احمد رہتا ہے، جس نے ایک قتل بھی کیا ہے، یہ سزایاب بھی ہے، یہ سب لوگ مل کر اسی صحن میں مسجد بنوانا چاہتے ہیں، وہ صحن تقریباً ۲۰ سال سے میرے قبضہ میں ہے اور وہ اراضی حکیم ایوب صاحب کی ہے، تقریباً دو سال ہوئے ان کا انتقال ہو گیا ہے اور یہ سب لوگ کہتے ہیں کہ حکیم صاحب نے ہم کو مسجد بنوانے کے لئے صحن دیا ہے، مگر ہم ان کی رعایا ہیں ہم کو انہوں نے کوئی اطلاع مسجد بنوانے کی نہیں دی ہے، لہذا اب…

جواب

اگر اس جگہ کے مالک نے یہاں مسجد بنانے کے لئے کہہ دیا ہے اور اس کا ثبوت موجود ہے تو جن لوگوں کو کہا ہے ان کو وہاں مسجد بنانا درست ہے آپ کو یا کسی کو منع کرنے کا حق نہیں ہے، اگر آپ کیلئے رہنے کی جگہ نہیں ہے تو اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو جگہ دے اور اللہ کا گھر بنانے کے لئے جب آپ جگہ چھوڑ دیں گی تو یقیناً آپ کے اخلاص کی برکت سے دوسری جگہ مل جائے گی مسجد بنانے والے شورہ پشت ہوں،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو