حکومت کی دی ہوئی زمین پر مسجد کی تعمیر
سوال
اسلامیہ اسکول ایک ہندو کی زمین پر واقع ہے جو موجود ہے اور موجودہ حکومت کے قانون کے تحت گاؤں سماج یعنی پنچایت کے تحت ہے، اور زمینداری کے زمانہ میں اسی ہندو کی تھی اور اسکے نیچے ایک تالاب ہے، ناظم مدرسہ نے اس زمین کو سرپنچ پردھان وممبران پنچایت سے مدرسہ کے نام پنچائتی قانون کے اعتبار سے مدرسہ کے نام کرالیا ہے، جس کا مقدمہ ہندو مدرسہ سے با قاعدہ لڑ رہے ہیں، جواب طلب یہ ہے کہ مدرسہ مقدمہ جیت گیا تو اس کے اوپر مسجد بنوائی جاسکتی ہے یا نہیں، اور شرعاً اس زمین کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
جبکہ تمام زمینوں کی مالک حکومت ہے، اور حکومت کے کارکنان نے یہ زمین مدرسہ کے نام پر لکھ دیا تو یہ زمین مدرسہ کی ملک ہو گئی، مدرسہ کے مفاد کے پیش نظر اس میں مسجد کی تعمیر کی جاسکتی ہے، نظيره فى الهدايه واذا غلب الترك على الروم فسبوهم واخذوا اموالهم ملکوھا ہدایہ، ج ۲ ص ۵۴۸
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔