مسجد کی بانی کی طرف نسبت
سوال
ایک شخص نے مسجد بنوائی اور اس مسجد پر یہ کھدوایا (کہ مسجد وحیدیہ بیادگار ڈاکٹر عبدالوحید) بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس مسجد میں نماز پڑھنا درست نہیں بعض کہتے ہیں کہ درست ہے، تو ایسی صورت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
جب کہ مسجد بنادی گئی اور مالکانہ قبضہ اس پر نہیں رکھا گیا، تو اس میں نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے محض عبارت مذکورہ کندہ ہونے سے نماز میں کوئی خلل نہیں آتا، بانی کی طرف مسجد کی نسبت میں کوئی اشکال نہیں، حدیث شریف میں مسجد بنی فلاں کہنے کی اجازت ہے کہ مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مسجد عمر رضی اللہ عنہ اور مسجد بلال رضی اللہ عنہ وغیرہ مشہور ومعروف ہیں، اسکا مقصد یا تو بانی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔