گھر کو مسجد بنا دینا
سوال
زید کا اپنا ذاتی مکان ہے اس نے قصبہ کے عام مسلمانوں کو تحریر اقرارنامہ رو برو عدالت کے بنوا کر مسلمانوں کو دیا اور کہا کہ اس وقت سے ہمیشہ کے لئے عام طور پر میرے مکان کے اندر باجماعت نماز پنج وقتہ پڑھنے کا حق ہے، میں اور میری بیوی جب تک زندہ ہیں مکان کے اس کونہ میں رہیں گے، بقیہ مکان پر کل مسلمانوں کا حق رہے گا۔
جواب
اگر زید نے صحت وتندرستی میں اس مکان کو مسجد بنا دیا اور اس کا راستہ بھی الگ کر کے اس سے اپنا قبضہ ہٹا لیا اور عام مسلمانوں کو اجازت دیدی اور انہوں نے باقاعدہ اس میں اذان وجماعت شروع کر دی تو شرعاً وہ مسجد بن گئی، اب زید کی بیوی یا کسی کا اس پر کوئی حق نہیں رہا، جو دعوی کرے وہ لغو اور باطل ہے، اگر مرض الموت کی حالت میں اس مکان کو مسجد بنایا تو وہ وصیت کے حکم میں ہے اور ایک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔