سابقہ غلط بنیاد پر مسجد تعمیر نہ کی جائے
سوال
(۱) سوال ایک پرانی مسجد کی جدید تعمیر کے سلسلے میں قطب نما سے دیکھا جاتا ہے، تو آٹھ فٹ کا فرق قبلہ میں آرہا ہے، کیا ایسی صورت میں سابقہ بنیاد پر جدید تعمیر کر لی جائے، یا قطب نما سے قبلہ درست کرنا ضروری ہے؟ (۲) کتنے فٹ کے فرق سے انحراف سمجھا جائے گا، اور نماز درست نہیں ہوگی؟ فٹ کی تعیین فرمائیں؟ (۳) فتویٰ کے نہ ماننے والے یا پس پشت ڈالنے پر شریعت کیا حکم لگاتی ہے اور ایسے آدمی کو پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ (۴) فتویٰ کی موجودگی میں فتویٰ کے خلاف فیصلہ کرنا کیسا ہے، اور اس فیصلے کونہ ماننا کیسا ہے؟ (۵)
جواب
(۱) دیده ودانستہ انحراف کے ساتھ تعمیر ہرگز نہ کی جائے، ہو سکتا ہے کہ ابتدا سابقہ مسجد بنانے کے وقت پورا لحاظ قبلہ کانہ ہو سکا ہو، کوئی ذریعہ صحیح علم کا نہ ہو، اب جبکہ صحیح علم کا ذریعہ موجود ہے دیگر مساجد کو بھی دیکھ لیا جائے، قطب نما سے بھی اندازہ کر لیا جائے تب تعمیر کی جائے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔