مسجد کی بنیاد رکھنے سے حکم مسجد
سوال
(۱) مسجد کی بنیاد رکھنے سے مسجد کے احکام جاری ہو جاتے ہیں، یا اذان وجماعت ہونے پر جاری ہوں گے؟ (۲) جس مسجد کا ذکر ہے اس مسجد کا مصلیٰ اور سمت قبلہ کی دیوار قد آدم تک تیار ہو چکی ہے اور دونوں بغلوں یعنی شمال وجنوب کی دیواریں قائم ہو چکی ہیں اور بھراؤ صحن مسجد بھی بھر دیا گیا ہے، یہ مسجد مدرسہ فیض القرآن کی جگہ میں ہے جو کہ مدرسہ کی ہے اور اس محلہ میں چار مسجدیں ہیں، ایک مسجد تو تعمیر مسجد سے چالیس قدم پر ہے اور اذان کی آواز بھی اور مسجدوں سے آتی ہے، اس قدر تعمیر ہو جانے کے بعد بانیان مسجد کو اس طرف توجہ ہوئی کہ اگر…
جواب
(۲-۱) وہ جگہ پہلے سے مدرسہ سے کے لئے وقف ہے، اور جو شخص متولی یا مہتمم ہے، اس کو واقفین کی طرف سے اختیار عام حاصل ہے کہ اس زمین میں جو تعمیر مدرسہ کی مصحلت کے موافق سمجھے بنائے، پھر اس نے بہ نیت مسجد اس کی بنیاد رکھی، نیز اسی نیت اور نام سے لوگوں نے چندہ دیا اور جو تعمیر اب تک ہوئی وہ اسی نیت اور ہیئت پر ہوئی، لہذا اس پر شروع ہی سے مسجد کے احکام جاری ہوں گے اگر چہ ابھی تک اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔