مسجد صغیر اور کبیر
سوال
خواجہ کی جامع مسجد میں ایک صف میں تقریباً پچاس آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں، اور پوری مسجد میں تقریباً چھ سو سات سو آدمی آ سکتے ہیں، تو یہ مسجد کبیر کا حکم رکھتی ہے یا مسجد صغیر کا، اور مسجد صغیر اور مسجد کبیر کی کیا تعریف ہے؟ اور ان دونوں مساجد کے متعلق نمازیوں کے لئے کیا کیا احکامات ہیں؟ مولوی صاحب مذکور اس مسجد کو مسجد کبیر کہتے ہیں، اور دیگر علماء کرام اس کو مسجد صغیر کہتے ہیں؟
جواب
جو مسجد چالیس گز (شرعی) لمبی اور اتنی ہی چوڑی ہو وہ مسجد کبیر ہے، جو اس سے چھوٹی ہو وہ مسجد صغیر ہے۔ (کذا فی رد المحتار)۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔