مسجد کیسے بن جاتی ہے
سوال
ایک شخص نے تقریباً چالیس سال قبل ایک مسجد بنائی، لوگوں کو نماز پڑھنے کے لئے کہا اور زبانی وقف کر دیا، اس وقت اس کی پوتی مسجد کے احاطہ میں دیوار وغیرہ کرنے سے لوگوں کو روکتی. ہے، جس سے لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ مسجد تو وقف نہیں کی گئی، بلکہ اس زبانی وقف کو توڑتی ہے، اور مصلیان مسجد کا خیال یہ ہے کہ جب کاغذ میں لکھ کر وقف نہ کیا جائے، تو وقف صحیح نہیں، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس طرح زبانی وقف کرنے سے وقف صحیح ہو جائے گا یا نہیں اور اس عورت کو روکنا درست ہے یا نہیں، اور مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
جبکہ مسجد بنائی اور زبانی وقف کر کے لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اور وہاں اذان وجماعت ہونے لگی، اور اپنی ملک سے اس مسجد کو راستہ وغیرہ سے ممیز کر دیا تو وہ بالا تفاق شرعی مسجد بن گئی، اگر چہ تحریر وقف نامہ کی نوبت نہ آئی ہو، وہاں نماز دوسری مسجدوں کی طرح بلا تامل درست ہے، واقف کے ورثہ کو اس میں کوئی ایسا تصرف درست نہیں جو وقف کیخلاف ہو اور بطور وراثت ملک کا دعویٰ کرنا غلط…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔