الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مکان شرعی مسجد کب بن جاتا ہے

سوال

ہمارے ایک قریہ میں ایک گھر کو مسجد کا نام رکھ کر نماز ادا کی جاتی تھی اب اس گھر کے پینتیس گز فاصلہ پر زید نے اپنی خالی جگہ مسجد کے لئے دیدی اور مسجد بنادی گئی، اس میں نماز ادا کی جا رہی ہے، اب زید اپنی خالی جگہ نئی مسجد کیلئے جو دے چکا ہے، اس کے عوض پہلے (جس کا نام مسجد رکھ کر نماز ادا کی جاتی ہے اب بیکار ہے) کو اپنے بود وباش کے لئے رکھ لینا چاہتا ہے، اس گھر کو توڑ کر مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے، آیا یہ صورت از روئے شرع جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر اس گھر کو وقف کر دیا اور اپنا مالکانہ قبضہ اٹھا کر اس کو ہمیشہ کیلئے مسجد قرار دیدیا تھا کہ اس میں اذان وجماعت ہوتی تھی، اور جب جس کا دل چاہے وہاں آکر نماز پڑھ لیتا تھا، کوئی روک ٹوک نہیں تھی اور اس شخص کا رہنا سہنا اس میں نہیں تھا نہ وہاں اس کا سامان رکھا ہوا تھا تو وہ مکان شرعی مسجد ہے اب اس کو واپس لینے کا حق نہیں رہا، اگر اس طرح اس کو مسجد قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو