الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک جگہ کے وقف کو دوسری جگہ منتقل کرنا

سوال

کسی جائیداد کو ایک مصرف خیر کے لئے وقف کر دیا گیا، اس کے بعد اس وجہ سے کہ دوسری جگہ اس کی ضرورت زیادہ ہے، تو اس جائیداد کو دوسری طرف منتقل کیا جا سکتا ہے، یا نہیں؟ ایک شخص کی زمین پر دوسرے شخص کا غاصبانہ قبضہ ہے، اسکو مالک نے جامع مسجد کے نام وقف کر دیا اور کہہ دیا کہ متولی جانے، میں تو وقف کر چکا، اسکی مالیت ایک ہزار روپیہ کی ہوگی، لیکن وہ شخص قبضہ نہیں چھوڑتا اور ایک ہزار روپیہ کے بجائے دو ہزار روپیہ دینے کو تیار ہے، تو اس کو فروخت کر کے جامع مسجد میں ناکارہ جائیداد کو کارآمد بنالیں یا دوسری جائیداد خرید لے اور…

جواب

دوسری جگہ اس حالت میں منتقل کر دینا شرعاً درست نہیں ہے ایسی مجبوری میں اگر متولی دو ہزار روپیہ لے کر کوئی اور جائیداد جامع مسجد کے لئے وقف کر دے تو درست ہے: ولو صارت الارض بحال لا ينتفع بها والمعتمد انه بلاشرط يجوز للقاضي بشرط ان يخرج عن الانتفاع بالكلية وان لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وان لا يكون البيع بغبن فاحش (شامی ۳/۳۸۸)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو