الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک جگہ کے وقف کو دوسری جگہ صرف کرنا

سوال

ایک شخص کچھ زمین وقف کرتا ہے، واقف کی نیت مطلق دینی مصرف میں خرچ کرنا ہے، لیکن وقف کرتے وقت اس معاملہ پر کوئی دینی مصرف نہ ہونے کی وجہ سے وقف شدہ جائیداد کو مسجد کے نام سپرد کر دیا، جائیداد کی آمدنی اتنی ہے کہ ضروریات مسجد پوری ہونے کے بعد بچ جاتی ہے، دینی مدرسہ میں یتیم، غریب طلباء تعلیم پاتے ہیں، اس میں خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ امید ہے کہ صحیح جواب ارقام فرمائیں گے۔

جواب

جب واقف نے جائداد مطلق دینی مصرف میں خرچ کرنے کے لئے وقف کر دی اگر چہ زبانی کیا تو یہ وقف صحیح ہو گیا، اس کے بعد کسی کو کسی ایک مصرف کے لئے تخصیص تعیین کرنے کا حق نہیں ہے، بلکہ اس موقوفہ جائداد کو مسجد دینی مدارس اور دیگر دینی مصرف میں خرچ کرنا درست ہے: وفی الاسعاف ولا يجوز له، ان يفعل الا ما شرط وقت العقد وفي فتاوى الشيخ قاسم وما كان من شرط معتبر في الوقف فليس للواقف تغييره…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو