ايضاً / وقف زمین پر اسکول کی تعمیر
سوال
اسلامیہ اسکول کو گاؤں کے تمام قوموں نے چک بندی کے زمانہ میں کچھ زمین دی ہے، تقریباً بیس بیگھہ اور وہ مدرسہ کیلئے ہے، اب دریافت طلب بات یہ ہیکہ اس کا مالک مدرسہ ہوا یا قوم اور کیا اس زمین کو مدرسہ اسلامیہ کے معاملہ کے علاوہ اور کہیں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور کیا اس پر انگریزی مدرسہ بنایا جا سکتا ہے، اور کیا قوم کو اور ناظم وممبران کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ اس زمین کو جہاں چاہے استعمال کر سکیں؟ مدلل تحریر کریں۔
جواب
عبارات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ زمین مذکورہ مدرسہ کی ملک ہے، مدرسہ کے مفاد کے علاوہ نہیں استعمال کی جاسکتی، قوم وناظم وممبران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ زمین کو جہاں چاہیں استعمال کریں اسطرح اس پر انگریزی مدرسہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔