بیر موقوفہ کا سامان نئی تعمیر میں
سوال
ایک مسجد کے قریب ایک کنواں ہے جس کو ایک تھانیدار نے زمینداروں سے لے کر رفاہ عام کے لئے آباد کیا تھا کچھ عرصہ کنواں جاری رہا پھر اس تھانہ دار کی تبدیلی پر دوسرے تھا نہ دار نے جاری کرنے پر غور نہ کی اور سامان چوبی اکثر لوگوں نے اکھیڑ کر جلا دیا اور کچھ سامان بچ گیا، اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ بچا ہوا سامان مسجد شریف کی تعمیر میں لگایا جائے تو شرعاً اجازت ہے، یا نہ اگر بعینہ نہ لگ سکے تو اس کو فروخت کر کے اس رقم کو محفوظ رکھیں اور دوسری جگہ سے قرضہ لے کر مسجد میں لگا دیں اور اس رقم سے قرضہ اتار دیں یہ کس طرح ہے۔
جواب
ا۔ اگر وہ کنواں آباد ہے اور اس کی ضرورت ہے تو وہ سامان اسی کنویں میں صرف کرنا چاہئے، اگر وہ غیر آباد ہے، اس کی ضرورت نہیں رہی، دوسرا کنواں موجود ہے، تو پھر اس سامان کو کسی قریب کے دوسرے کنویں میں حسب ضرورت صرف کر دیا جائے مسجد میں صرف نہ کیا جائے، لیکن اگر کسی دوسرے کنویں میں ضرورت نہ ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ اس بقیہ سامان کو بھی دوسرے لوگ اٹھا کر لے جاویں گے تو پھر اس کو مسجد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔