وقف ویران شدہ کنواں دے کر اس کے عوض میں کنواں بنوانا
سوال
تقریباً پندرہ سال قبل زید نے ایک کنواں بنوا کر رفاہ عام کے لئے وقف کر دیا لیکن تقریبا پانچ چھ سال سے کوئی بھی اس کنویں کو استعمال میں نہیں لاتا مطلب یہ ہے کہ ویران پڑا ہوا ہے اور مذکورہ کنواں بکر کے دو مکانوں کے درمیان میں پڑتا ہے تو بکر نے زید سے مطالبہ کیا کہ کنواں مجھے دیدو اور آپ لوگوں سے گاؤں میں جہاں زیادہ استعمال ہو سکے اور عوام فائدہ اٹھا سکے وہاں کنواں بنا کر وقف کر دو اور نیا کنواں بنانے میں جتنا خرچ ہو گا وہ میں دونگا۔ (۲) اب کیا زید شرعی اعتبار سے ویران کنواں بکر کو دیکر نیا بنا سکتا ہے یا نہیں۔ (۳)
جواب
اگر اس کی اصلاح کر کے اس کو کارآمد نہیں بنایا جا سکتا اور اس کا جو نفع تھا وہ حاصل نہیں ہوتا اور بکر اتنی رقم زید کو دیدے جس سے کار آمد کنواں بنا کر وقف کر دیا جائے اور اس سے سب فائدہ اٹھائیں تو شرعاً یہ صورت درست ہے۔ ۲- اس تبادلے کے بعد بکر اس جگہ اپنا ذاتی مکان بنا سکتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔