جو جگہ مدرسہ کی نیت سے خریدی اس کو مسجد یا اور کسی کار خیر کے لئے وقف کرنا
سوال
ایک مخیر اور سخی حنفی سنی شخص نے ایک کھلی جگہ جس کی قیمت اسٹامپ پر ڈھائی ہزار روپے ہے۔ روپے ہے، مدرسہ یا انجمن کو وقف کرنے کی نیت سے خریدی اب وہ شخص یہ جگہ یا اس کی قیمت مسجد کیلئے وقف کرنا چاہتا ہے، از روئے شرع یہ فعل کیسا ہے؟ اور اس کا اجر وثواب ہے، یا نہیں؟ خان پور میں ایک فیاض ہستی نے ایک کھلی جگہ اپنی اہلیہ کے نام سے خریدی اور یہ ارادہ کیا کہ مدرسہ یا انجمن کو وقف کر دیں گے، جہاں یتیم اور مفلس بچوں کی تعلیم کا پروپیگنڈہ تھا، تقریباً آٹھ نو سال سے یہ جگہ خالی پڑی ہے، نہ مدرسہ قائم ہوا اور نہ انجمن البتہ نمائش…
جواب
(۱) مدرسه یا انجمن کی نیت سے خریدنے کے بعد بھی وہ جگہ خریدار کی ملک میں ہے، محض نیت سے مدرسہ یا انجمن پر وقف نہیں ہوئی۔ اب اگر اس کے نزدیک مسجد کے لئے وقف کرنا زیادہ مفید ہو تو مسجد پر وقف کر دینے کا اس کو حق حاصل ہے۔ (۲) جب وہاں نہ مدرسہ ہے، نہ انجمن جو کہ مدرسہ بنائے اور چلائے تو پھر مسجد میں ہی وقف کردے۔ (۳) اسکا نمبر: ار میں جواب آگیا۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔