الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو زمین مزار کیلئے وقف ہے اسکی آمدنی سے مدرسہ قائم کرنا

سوال

(۱) موضع سر ساوہ میں ایک بہت پرانا مزار حضرت مخدوم جی صاحب کا ہے علاقہ میں ان کے نام پر زمین ہے، حضرت مخدوم جی کا سالانہ میلہ بھی لگتا ہے، اور بدعات سیئہ اور دوسری خرافات بھی ہوتی ہیں، وہاں پر کوئی لنگر خانہ بھی نہیں ہے، اور نہ ہی کچھ خرچ ہے، اب وقف کرده زمین کی آمدنی حضرت مخدوم کی کمیٹی کو دینی چاہئے، یا اپنے گاؤں کی مسجد میں لگانی چاہئے، جبکہ مسجد کا خرچ مقامی مسلمانوں سے برداشت نہیں ہوتا۔ سوال: (۲)

جواب

(۱) بہتر صورت یہ ہے کہ مسجد کے متعلق قرآن کریم کا مدرسہ قائم کر دیا جائے، اور زمین کی آمدنی سے مدرس کو تنخواہ دی جائے، وہ مدرس امام ہو یا کوئی اور اس سے مسجد بھی آباد رہے گی، دینی تعلیم بھی ہوگی، اور صاحب مزار کو اس کا ثواب بھی پہنچتا رہے گا، جو کہ واقف کا اصل منشاء ہے۔ (۲) اگر وہ درخت بصورت موجودہ آمدنی کا ذریعہ نہیں ہیں تو ان کو فروخت کر کے نمبرار کے مصرف میں صرف کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو