الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد یا مدرسہ کے لئے وقف شدہ زمین میں اسکول یا قبرستان بنانا

سوال

(۱) ایک متقی شخص نے اپنی مقبوضہ ومملوکہ ایک قطعه زمین بناء مسجد اور اسکے صحن کیلئے خصوصی طور پر لسانی ہبہ کر دیا تھا چنانچہ بناء علیہ اس کے کچھ حصہ پر اس کے حین حیات میں ایک جامع مسجد بنائی گئی اور باقی حصہ اسی وقت سے جو تقریباً سال کا عرصہ ہے بطور صحن مسجد منصرف مستعمل ہے اب واجب الاستفتاء یہ ہے کہ اسی صحن کو اسکی وفات کے بعد کسی سرکاری اسکول کی بقاء وتحفظ کی خاطر اسکے لوازمات میں شمار کر کے ضلع بورڈ میں گورنمنٹ کے نام پر ہبہ کر دینا وارثین بانی مسجد یا متولی یا مصلیوں کے واسطے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ (۲)

جواب

نا جائز ہے جس کام کیلئے واقف نے وہ قطعہ زمین وقف کیا ہے، اس کے خلاف میں استعمال کرنا جائز نہیں اور اس کو اور دیگر نمازیان وغیرہ کسی کو بھی شرعاً یہ حق حاصل نہیں کہ واقف کی غرض کے خلاف کسی دوسرے کام میں اس وقف کو صرف کریں، یا منتقل کریں۔”شرط الواقف كنص الشارع “۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو