مسجد آباد کو توڑ کر عید گاہ بنانا
سوال
اور مسجد آباد کو توڑ کر عید گاہ بنانا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
آباد مسجد کو جس میں پانچوں وقت کی جماعت ہوتی ہو توڑ کر صرف عیدین کی نماز کے لئے عید گاہ بنانا جائز نہیں ہے، خصوصاً جب کہ عید گاہ پہلے سے موجود بھی ہو، اولاً اس لئے کہ یہ مسجد کی ویرانی اور تعطل کا سبب ہے، قال الله تعالى ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى في خرابها، ثانیا اس لئے کہ اس مسجد کی حرمت ساقط ہوتی ہے، کیونکہ شرعاً جو احترام مسجد کا ہے وہ عید گاہ کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔