فیض عام کے لئے وقف شدہ زمین کو مسجد کے لئے منتقل کرنا
سوال
زید نے چند مکانات فیض عام ہائی اسکول کے لئے وقف کئے تھے جس کو عرصہ ۳۰ سال کا ہو گیا جس میں ایک مکان کچا بوسیدہ تھا، جس کی کل زمین ۸ گز لمبی اور ۶ گز چوڑی تھی، اب وہ عرصہ ہوا کوٹھا گر گیا اور زمین پڑی ہوئی ہے، اس کے تعمیر کرنے میں دو ہزار روپے کا خرچ ہے ہائی اسکول کے پاس روپیہ نہیں ہے، یہ جگہ کورٹ کے قریب ہے، آئندہ یہ جگہ کورٹ کی نذر ہونے والی ہے اس لئے اہل محلہ چاہتے ہیں کہ اس اراضی کو مسجد میں منتقل کرالی جائے تا کہ واقف کو ثواب بھی پہنچے اور جگہ بھی محفوظ ہو جائے کیا یہ منتقلی جائز ہے؟
جواب
یہ ۸ گز لمبی زمین اور ۶ گز چوڑی زمین اس موقع پر مسجد ہی کے کس کام میں آئے گی، تاہم اگر وقف اس طرح محفوظ رہ سکتا ہے ورنہ ضائع ہو جائے گا، تو ایسی مجبوری کی حالت میں یہ صورت شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔