مسجد کو عید گاہ بنانا
سوال
ایک گاؤں میں ایک مسجد تھی اہل محلہ نے مشورہ کر کے اس کو دوسری جگہ بنائی اب وہ لوگ چاہتے ہیں کہ پہلی مسجد کی جگہ میں کچھ جگہ چاروں طرف سے ملا کر عیدگاہ بنالیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ پہلی مسجد کی جگہ کے ساتھ اور کچھ ملا کر عید گاہ بنائی جائے، تو اس میں بلا کراہت عید کی نماز جائز ہوگی یا مع الکراہۃ؟
جواب
جس مقام پر عید کی نماز جائز ہے وہاں عید کی نماز مسجد میں بھی جائز ہے اور عید گاہ میں بھی جائز ہے، لیکن اگر عذر قوی نہ ہو تو عید گاہ میں جا کر پڑھنا سنت ہے، پس اگر وہ گاؤں ایسا بڑا گاؤں ہے کہ جس میں جمعہ وعید کی نماز درست ہے، یعنی اپنی آبادی اور دیگر ضروریات بازار وغیرہ کے لحاظ سے قصبہ کے مثل ہے جس کی آبادی کم از کم تین ہزار ہو تو وہاں مسجد اور عید گاہ دونوں جگہ عید کی نماز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔