الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جبراً وقف کرانا

سوال

(۱) ایک مشترکہ زمین جو درمیان چند مسلمان اور غیر مسلم کی تھی، اور آبادی میں واقع تھی، یہ مشتر کہ زمین تقریباً ۲۰٫۵۰ سال سے مسلم وغیر مسلم کے نام تھی۔ (۲) زید نے اس مشترکہ زمین میں سے بلا تقسیم کے غیر مسلم کا حصہ خرید لیا، اور زید اب اس کی تقسیم بذریعہ عدالت منصفی کرا رہا ہے، مسلمانوں نے اپنا کل حصہ مسجد کے نام وقف کر دیا ہے۔ (۳) اس مشتر کہ زمین پر عمر نے ایک ٹال تقریباً ۳۰ سال سے ڈال رکھی ہے، کیونکہ ابھی زید نے اپنے حصہ کی تقسیم نہیں کرائی ہے، اس وجہ سے یہ متعین نہیں ہو سکا کہ عمر نے یہ ٹال کس کے حصہ پر لگائی ہے۔

جواب

مسجد کے نام وقف کر دینے سے یقیناً زید ثواب کا مستحق ہوگا مگر دوسرے لوگوں کو زبردستی کرنے کا حق نہیں اگر اس کو شرعی اکراہ کے ساتھ مجبور کیا گیا اور اس نے مجبور ہو کر وقف کر دیا تو یہ شرعی وقف نہیں ہوگا اور اکراہ کرنے والے گنہگار ہوں گے، اور زید کو حق ہوگا کہ وہ اپنا حصہ واپس لینا چاہے تو واپس لے لے، کیونکہ یہ حق العبد ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو