الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نا بالغ کا وقف معتبر نہیں

سوال

زید نے شادی کی، زید کے دولڑکے ہوئے جو اب بالغ ہیں، زید کی بیوی کا انتقال ہو گیا پھر زید نے دوسرا نکاح کیا جس سے ایک لڑکا دولڑکیاں ہیں، دونوں لڑکیاں بالغ ہیں لڑکے کی عمر سات سال ہے جو نا بالغ ہے، زید کا انتقال ہو گیا، زید نے ترکہ میں کچھ زمین چھوڑی، گاؤں کے مسلمان اس زمین پر مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں، زید کی پہلی بیوی کے جولڑکے ہیں وہ اسی زمین کو مسجد کی تعمیر کیلئے دے رہے ہیں، کیا اس زمین پر مسجد تعمیر ہوسکتی ہے؟ فقط

جواب

وہ زمین اس مرحوم کا ترکہ بن کر ورثہ کا حق ہے، ورثہ بخوشی مسجد کے لئے دیدیں تو وہاں مسجد بنانا درست ہے، جو وارث نابالغ ہو اس کی اجازت معتبر نہیں، نہ اس کی طرف سے کسی بالغ وارث کی اجازت معتبر ہے اگر اس نابالغ کے ولی اس کے حق میں یہ مناسب سمجھیں کہ اس کا جس قدر حصہ اس زمین میں ہو وہ فروخت کر کے مسجد بنانے کے لئے حوالہ کر دیں اور اس کی قیمت سے مناسب زمین نابالغ کے نام پر خرید لیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو