الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گھر یلو سامان کا وقف صحیح ہے؟

سوال

زید عمر وبکر خالد چار بھائی تھے ان کی تجارت میں بٹوارہ جس میں ان لوگوں کو مال منقولہ وغیر منقولہ ہاتھ آیا، زید عمر وکا کام کچھ دنوں ایک میں ہوتا رہا آخر کار زید نے اپنی تمام چیزوں کو وقف کر دیا حتی کہ اثاث البیت کا بھی وقف کر دیا مگر تفصیل کے ساتھ لیکن ایک چیز کا نام نہیں لیا کچھ دنوں کے بعد زید کا انتقال ہو گیا، زندگی کے آخری ایام بھائیوں میں گزارے مگر وقف کی کنجی اس کے متولی کے پاس رہی کیا اس صورت میں اثاث البیت کا وقف صحیح شمار کیا جائے گا یا وارثت بن کر ورثہ میں پھر تقسیم ہو جائے گا۔

جواب

اثاث البیت کا (جس کے وقف کرنے کا تعامل ہے) بھی وقف ہو جاتا ہے وہ ترکہ ہو کر ورثاء پر تقسیم نہیں ہوگا: ولو وقف العقار ببقره واكرته صح كمشاع قضى بجوازه ومنقول قصدا فيه تعامل للناس كفأس وقدوم ودراهم ودنانير وقدر وجنازة وثيابها ومصحف وكتاب اهـ (در مختار على هامش الشامی نعمانی ص ۳۷۳، ۳۷۴، ج۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو