الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خانقاہ نام دینے سے وہ مکان وقف نہیں ہو جاتا

سوال

اب سے تقریباً ۵۰ سال قبل (عہد ریاست) میں سرکا ر سلطان جہان بیگم صاحبہ نے ایک دو منزلہ عمارت سکونتی غرض کے لئے پیر ضیاء الدین صاحب کو عاریت دیدی تھی جس کے وقف کرنے یا خانقاہ قرار دینے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، پیر صاحب کی سکونت کی بناء پر یہ مکان خانقاہ کے نام سے موسوم ہو گیا اب سے تقریباً ۴۰ سال پہلے پیر ضیاء الدین صاحب اپنے وطن مالوف اناؤ چلے گئے اور جانے کے ایک سال بعد وہیں وفات ہوگئی ان کی حیات میں یہاں سے غیاب میں اور ان کی وفات کے بعد کوئی سجادہ نشیں مقرر نہ ہوا مکان خالی ہو گیا، منجانب صرف خاص اس مکان کے نچلے…

جواب

اگر واقعہ اسی طرح ہے کہ اس مکان کو نہ وقف کیا گیا نہ پیر صاحب کی ملکیت قرار دیا گیا بلکہ اصلی مالک کی ملکیت اس پر قائم ہے تو مالک کو اس میں تصرف کا پورا حق حاصل ہے مسلم زچہ خانہ بنانا بھی درست ہے، پیر صاحب کو اس میں عاریہ قیام کی وجہ سے اگر وہ خانقاہ کے نام سے موسوم ہو گیا اور لوگ اس کو خانقاہ کہنے لگے تو مالک کا حق تصرف ختم نہیں ہوا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو