وقف مرض الموت میں نہیں ہے تو وقف ہے
سوال
ہدایت نامی شخص کا لڑکا بہت نا فرمان تھا اپنے نانا کے گھر والدین سے الگ رہتا تھا اس نے اپنا آدھا گھر مسجد کو وقف کر دیا، اور آدھا سات سو روپے میں مسجد کو بیچ دیا اور کہا جب تک زندہ ہوں یہ روپے خرچ کرونگا، اور جب روپیہ ختم ہو جائے، تو بستی والے ہمارے خرچ کے ذمہ دار ہیں تجہیز وتکفین سے جو رقم بچ جائے وہ مسجد میں لگا دی جائے پھر وہ مکان بیچنے اور مسجد میں وقف کرنے کے ۱۵اریوم کے بعد مر گیا، تجہیز وتکفین سے فراغت کے بعد پانچ سوروپیہ بچا اب اس کا لڑکا کہتا ہے کہ میں اسکا وارث ہوں جبکہ مرحوم نے آدھا مکان مسجد کو وقف کر…
جواب
اگر یہ وقف مرض الموت میں نہیں کیا اس سے پہلے کیا اور اس پر مسجد کا قبضہ کرا دیا ہے تو وقف صحیح ہو گیا ہے اور نصف بصورت بیع اور نصف بصورت وقف ہو کر کل مکان مسجد کا ہو گیا، کسی وارث کا اس میں کوئی حق نہیں رہا ہے تجہیز وتکفین کے بعد جو روپیہ بچا اگر وہ مرحوم کے ترکہ کا ایک تہائی یا اس سے کم ہے تب تو وہ بصورت وصیت مسجد کو دیدیا جائے، اگر وہ ایک تہائی ترکہ سے زیادہ ہے تو ایک تہائی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔